قرآن حکیم کورس کوڈ 389 حل شدہ اسامنٹ پہلی مشق

 



سورہ یونس کے دوسرے رکوع کا سلیس ترجمہ کریں نیز اس رکوع میں مزکور فعل مضارع اور فعل ماضی کو الگ کرکے ان کے معانی تحریر کریں 

سورہ یونس کے دوسرے رکوع (آیات 11 تا 20) کا سلیس ترجمہ:


(11) اور اگر اللہ لوگوں کے لیے ان کے ظلم میں جلد ہی عذاب بھیج دے (جیسا کہ وہ چاہتے ہیں) تو ان میں سے کوئی شخص باقی نہ بچے، لیکن وہ انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔


(12) اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں (ہر حالت میں) پکارتا ہے، خواہ (لیٹا ہوا) اپنے پہلو پر ہو، بیٹھا ہو یا کھڑا ہو، پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو (ایسے) گزر جاتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی تکلیف میں پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے گزرنے والوں کے لیے ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔


(13) اور تم سے پہلے بہت سی قومیں ہلاک کی جا چکی ہیں، جب انہوں نے ظلم کیا اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہم گناہگار لوگوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔


(14) پھر (اے لوگو!) ہم نے تمہیں زمین میں ان (ہلاک شدہ قوموں) کا جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔


(15) اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، وہ کہتے ہیں کہ "اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لے آؤ یا اس میں تبدیلی کر دو۔" (اے نبی!) آپ کہہ دیں: "میرے لیے یہ ممکن نہیں کہ میں اس میں از خود کوئی تبدیلی کر دوں، میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔"


(16) آپ کہہ دیں: "اگر اللہ چاہتا تو میں تمہیں یہ (قرآن) نہ پڑھ کر سناتا اور نہ ہی وہ تمہیں اس سے آگاہ کرتا۔ اس سے پہلے تو میں تمہارے درمیان (کئی سالوں تک) رہا ہوں، کیا تم عقل نہیں رکھتے؟"


(17) پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے؟ یقیناً مجرم لوگ فلاح نہیں پائیں گے۔


(18) اور (مشرک) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ، اور کہتے ہیں کہ "یہ (بت) تو اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔" آپ کہہ دیں: "کیا تم اللہ کو ایسی بات سے آگاہ کر رہے ہو جو وہ آسمانوں اور زمین میں نہیں جانتا؟" وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں۔


(19) اور لوگ (ابتدا میں) صرف ایک ہی امت تھے (سب یکساں فطرت پر)، پھر (حق و باطل میں اختلاف کے بعد) انہوں نے باہم اختلاف کر لیا۔ اور اگر آپ کے رب کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ ہو چکی ہوتی (یعنی عذاب کو ٹالنا مقدر ہو) تو ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دیا جاتا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔


(20) اور (کافر) کہتے ہیں کہ "اس (رسول) پر ان کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟" آپ کہہ دیں: "غیب کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے، پس تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔"


---


رکوع میں مذکور فعل مضارع اور فعل ماضی:


فعل ماضی (Past Tense) کے افعال:


1. كَانَ - تھا، ہوا۔

2. أَخَّرَهُمْ - انہیں مہلت دی۔

3. جَاءَ - آیا۔

4. يَسْتَأْخِرُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

5. مَسَّهُ - اسے پہنچی۔

6. دَعَانَا - اس نے ہمیں پکارا۔

7. كَانَ - تھا۔

8. كشفْنَا - ہم نے دور کر دی۔

9. مَرَّ - گزر گیا۔

10. دَعَانَا - اس نے ہمیں پکارا تھا۔

11. أَهْلَكْنَا - ہم نے ہلاک کیں۔

12. جَاءَتْهُمْ - ان کے پاس آئے۔

13. كَانُوا - وہ تھے۔

14. نَجْزِي - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

15. جَعَلْنَاكُمْ - ہم نے تمہیں بنایا۔

16. نَعْمَلُ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

17. تُتْلَى - (یہ مضارع مجہول ہے، ماضی نہیں)۔

18. يَرْجُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

19. قَالُوا - انہوں نے کہا۔

20. لِأَتَّبِعَ - (یہ مصدر ہے، فعل نہیں)۔

21. أُوحِيَ - وحی کی گئی۔

22. عَصَيْتُ - میں نے نافرمانی کی۔

23. أَخَافُ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

24. شَاءَ - اس نے چاہا۔

25. مَا قَرَأْتُهُ - میں نے اسے نہیں پڑھا۔

26. عَلِمَكُمْ - اس نے تمہیں آگاہ کیا۔

27. لَبِثْتُ - میں رہا۔

28. يَعْقِلُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

29. أَظْلَمُ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

30. افْتَرَى - اس نے بہتان باندھا۔

31. كَذَّبَ - اس نے جھٹلایا۔

32. يُفْلِحُ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

33. يَعْبُدُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

34. تَضُرُّهُمْ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

35. تَنْفَعُهُمْ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

36. قَالُوا - انہوں نے کہا۔

37. هُمْ - (یہ ضمیر ہے، فعل نہیں)۔

38. تُنَبِّئُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

39. يَعْلَمُ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

40. يُشْرِكُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

41. كَانَ - تھا۔

42. اخْتَلَفُوا - انہوں نے اختلاف کیا۔

43. سَبَقَتْ - پہلے گزر چکی تھی۔

44. قُضِيَ - فیصلہ کر دیا جاتا۔

45. يَخْتَلِفُونَ - (یہ مضارع ہے، ماضی نہیں)۔

46. قَالُوا - انہوں نے کہا۔

47. أُنزِلَ - اتاری گئی۔

48. قُلْ - (یہ فعل امر ہے، ماضی نہیں)۔

49. انتَظِرُوا - (یہ فعل امر ہے، ماضی نہیں)۔

50. مِنَ الْمُنتَظِرِينَ - (یہ اسم فاعل ہے، فعل نہیں)۔


فعل مضارع (Present/Future Tense) کے افعال:


1. يَسْتَأْخِرُونَ - پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔

2. يَسْتَقْدِمُونَ - آگے بڑھ سکتے ہیں۔

3. يَدْعُونَا - وہ ہمیں پکارتے ہیں۔

4. نَكْشِفْ - ہم دور کر دیں۔

5. نَجْزِي - ہم سزا دیا کرتے ہیں۔

6. نَعْمَلُ - تم عمل کرتے ہو۔

7. تُتْلَى - پڑھی جاتی ہیں۔

8. يَرْجُونَ - وہ توقع رکھتے ہیں۔

9. يَقُولُونَ - وہ کہتے ہیں۔

10. أَتَّبِعُ - میں پیروی کرتا ہوں۔

11. أُوحِيَ - (یہ ماضی مجہول ہے، مضارع نہیں)۔

12. أَعْصِي - میں نافرمانی کرتا ہوں۔

13. أَخَافُ - میں ڈرتا ہوں۔

14. يَشَاءُ - وہ چاہے۔

15. أَقْرَأُ - میں پڑھ کر سناؤں۔

16. يُعَلِّمَكُمْ - وہ تمہیں آگاہ کرے۔

17. تَعْقِلُونَ - تم عقل رکھتے ہو۔

18. أَظْلَمُ - ظالم ہوگا۔

19. يُفْلِحُ - فلاح پاتے ہیں۔

20. يَعْبُدُونَ - وہ عبادت کرتے ہیں۔

21. تَضُرُّهُمْ - نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

22. تَنْفَعُهُمْ - فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔

23. يَقُولُونَ - وہ کہتے ہیں۔

24. هُمْ - (ضمیر ہے)۔

25. تُنَبِّئُونَ - تم آگاہ کر رہے ہو۔

26. يَعْلَمُ - وہ جانتا ہے۔

27. يُشْرِكُونَ - وہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

28. يَكُونُ - ہو۔

29. يَخْتَلِفُونَ - وہ اختلاف کر رہے ہیں۔

30. يَقُولُونَ - وہ کہتے ہیں۔

31. يُنَزَّلُ - اتاری جائے۔

32. يَقُل - آپ کہہ دیں۔ (امر ہے)

33. انتَظِرُوا - تم انتظار کرو۔ (امر ہے)

34. أَنْتَظِرُ - میں انتظار کرتا ہوں۔

سوال نمبر 2

سورہ یونس کے رکوع نمبر چار کے مضبون کا خلاصہ تحریر کریں نیز اس رکوع میں مزکور اسما۶ کو الگ کرکے معانی تحریر کریں 

سورہ یونس کے رکوع نمبر 4 (آیات 31 تا 40) کا خلاصہ:


اس رکوع میں توحید کے دلائل اور قرآن کی حقانیت کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔


1. توحید کے عملی دلائل: لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہیں آسمان سے رزق کون دیتا ہے؟ تمہارے کان اور آنکھیں کس نے بنائے؟ مردہ زمین سے زندگی کون نکالتا ہے؟ اور کون آسمان و زمین کے نظام کی تدبیر کرتا ہے؟ پھر خود ہی جواب دیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کرتا ہے۔ اس کے باوجود لوگ حق سے کہاں بھٹک رہے ہیں۔

2. رسول کی تصدیق: اے نبی! آپ سے پوچھا جاتا ہے کہ کون سا معاملہ ہے جس میں اللہ کے سوا کوئی فیصلہ کر سکتا ہے؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی نے تمہیں (کفر کے) ظلم اور شرک سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف پہنچایا۔

3. قرآن کی صداقت کا ثبوت: کفار قرآن کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر وہ سچے ہیں تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں۔ بلکہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے تاکہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں اس بات کی تصدیق ہو جائے جو تمہارے پاس (پہلی کتابوں میں) ہے۔

4. حقیقت کا علم: اللہ ہی حق کا علم رکھتا ہے اور وہی بتا سکتا ہے کہ اس کا کلام برحق ہے۔ اس لیے جو لوگ اسے جھٹلاتے ہیں، قیامت کے دن اچانک ان پر ہلاکت آجائے گی اور وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے دیکھے جائیں گے۔

رکوع میں مذکور اسما (Nouns) اور ان کے معانی:


یہاں پر رکوع کی آیات (31-40) میں موجود اہم اسما (اسماء) کی فہرست دی جا رہی ہے۔ اسماء میں اسماء معرفہ (پہچان والے نام جیسے اللہ)، اسماء نکرہ (عام نام)، ضمائریں (وہ، تم، میں وغیرہ) اور اسماء اشارہ (یہ، وہ) شامل ہیں۔


1. قُلْ - (آپ) کہہ دیں۔ (یہ فعل امر ہے، اسم نہیں)

2. مَن - کون (سوالیہ اسم)

3. یَرْزُقُکُمْ - تمہیں رزق دیتا ہے۔ (فعل ہے)

4. مِّنَ - سے (حرف جر)

5. السَّمَاءِ - آسمان (اسم، معنی: آسمان)

6. وَ - اور (حرف عطف)

7. الْأَرْضِ - زمین (اسم، معنی: زمین)

8. قُلِ - آپ کہہ دیجیے (فعل امر)

9. اللَّهُ - اللہ (اسم، معنی: اللہ، خدا کا ذاتی نام)

10. وَ - اور

11. إِنَّا - بے شک ہم (حرف تاکید + ضمیر "ہم")

12. أَوْ - یا (حرف عطف)

13. إِيَّاكُمْ - تمہیں ہی (ضمیر مفعول بہ)

14. لَعَلَى - ضرور (حرف)

15. هُدًى - ہدایت پر (اسم، معنی: رہنمائی، صحیح راستہ)

16. أَوْ - یا

17. ضَلَالٍ - گمراہی میں (اسم، معنی: بھٹکنا، راستہ سے بھٹکنا)

18. مُّبِينٍ - واضح (اسم، معنی: صاف، ظاہر)

19. قُل - آپ کہہ دیں (فعل)

20. لَّا - نہیں (نفی کا حرف)

21. تُسْأَلُونَ - تم سے پوچھا جاتا ہے (فعل مجہول)

22. عَمَّا - اس (بات) کے بارے میں جو

23. أَجْرَمْنَا - ہم نے جرم کیا (فعل)

24. وَلَا - اور نہ

25. نُسْأَلُ - ہم سے پوچھا جائے گا (فعل مجہول)

26. عَمَّا - اس (بات) کے بارے میں جو

27. تَعْمَلُونَ - تم کرتے ہو (فعل)

28. قُل - آپ کہہ دیں (فعل)

29. یَجْمَعُ - جمع کرے گا (فعل)

30. بَیْنَنَا - ہمارے درمیان

31. رَبُّنَا - ہمارا رب (اسم + ضمیر, رَبّ کا معنی: پالنے والا، مالک)

32. ثُمَّ - پھر

33. یَفْتَحُ - فیصلہ کرے گا (فعل)

34. بَیْنَنَا - ہمارے درمیان

35. بِالْحَقِّ - حق کے ساتھ (اسم, حَق کا معنی: سچائی، برحق)

36. وَ - اور

37. هُوَ - اور وہ (ضمیر)

38. الْفَتَّاحُ - فیصلہ کرنے والا (اسم، معنی: کھولنے والا، فیصلہ کرنے والا)

39. الْعَلِیمُ - خوب جاننے والا (اسم، معنی: علم رکھنے والا، باخبر)

40. قُل - آپ کہہ دیں (فعل)

41. أَرُونِیَ - مجھے دکھاؤ (فعل)

42. الَّذِینَ - جنہوں نے (اسم موصول، معنی: وہ لوگ جو)

43. أَلْحَقْتُم - تم نے شریک ٹھہرائے (فعل)

44. بِهِ - اس کے

45. شُرَكَاءَ - شریک (اسم، معنی: ساجھی، شریک)

46. کَلَّا - ہرگز نہیں (حرف رد)

47. بَلْ - بلکہ

48. هُوَ - وہ (ضمیر)

49. اللَّهُ - اللہ (اسم)

50. الْعَزِیزُ - زبردست (اسم، معنی: غالب، عزت والا)

51. الْحَكِیمُ - حکمت والا (اسم، معنی: دانائی والا)

52. وَ - اور

53. مَا - اور نہ ہی (یا "جو" کے معنی میں)

54. أَرْسَلْنَاكَ - ہم نے تمہیں بھیجا (فعل)

55. إِلَّا - مگر

56. مُبَشِّرًا - خوشخبری دینے والا (اسم فاعل، معنی: خوشخبری سنانے والا)

57. وَنَذِیرًا - اور ڈر سنانے والا (اسم فاعل، معنی: خبردار کرنے والا)

58. لِقَوْمٍ - ایک قوم کے لیے (اسم, قَوْم کا معنی: گروہ، قوم)

59. یُؤْمِنُونَ - ایمان لاتے ہیں (فعل)

60. قُل - آپ کہہ دیں (فعل)

61. مَا - (کوئی) چیز (اسم نکرہ، معنی: چیز)

62. كَانَ - تھی (فعل)

63. لِی - میرے لیے

64. أَجْرٌ - اجر (اسم، معنی: بدلہ، صلہ)

65. عَلَیْْہِ - اس پر

66. إِلَّا - سوائے اس کے

67. مَن - جس نے (اسم موصول)

68. شَاءَ - چاہا (فعل)

69. أَن - کہ

70. یَتَّخِذَ - بنا لے (فعل)

71. إِلَٰهَهُ - اپنے معبود کو (اسم, إِلَٰه کا معنی: معبود، خدا)

72. رَبًّا - اپنا رب (اسم)

73. وَ - اور

74. کَذَّبُوا - انہوں نے جھٹلایا (فعل)

75. فَقُل - تو آپ کہہ دیں (فعل)

76. لَّعَنَةُ - لعنت ہے (اسم، معنی: دوری، رحمت سے محرومی)

77. اللَّهِ - اللہ کی

78. عَلَیْْكُمْ - تم پر

79. أَکْثَرَكُم - تم میں سے اکثر

80. أَفَلَا - تو کیا وہ نہیں (سوالیہ حرف)

81. تَعْقِلُونَ - عقل سے کام لیتے ہو (فعل)


(آیات 38 تا 40 میں مزید اہم اسماء):


1. أَفْتَرَاهُ - کیا وہ اسے گھڑ لائے ہیں؟ (فعل)

2. قُل - آپ کہہ دیں (فعل)

3. فَأْتُوا - تو لے آؤ (فعل)

4. بِسُورَةٍ - ایک سورت (اسم, سُورَة کا معنی: قرآن کا باب یا حصہ)

5. مِّثْلِهِ - اس جیسی

6. عَلِمَ - جان لیں (فعل)

7. لَّعَلَكُمْ - تاکہ تم (حرف)

8. صَادِقِینَ - سچے ہو (اسم، معنی: سچ بولنے والے)

9. کَذَبُوا - انہوں نے جھٹلایا (فعل)

10. بِمَا - اس چیز کو جس کا

11. لَمْ - نہیں (نفی)

12. یُحِیطُوا - انہوں نے احاطہ کیا (فعل)

13. بِعِلْمِهِ - اس کے علم سے (اسم, عِلْم کا معنی: علم، جانکاری)

14. وَلَمَّا - اور ابھی تک نہیں

15. یَأْتِهِم - ان کے پاس آئی ہے (فعل)

16. تَأْوِیلُهُ - اس کی حقیقت (اسم, تَأْوِیل کا معنی: تفسیر، حقیقی معنی، انجام)

17. کَذَٰلِكَ - اسی طرح

18. الَّذِینَ - جنہوں نے (اسم موصول)

19. مِن - سے

20. قَبْلِهِم - ان سے پہلے (اسم, قَبْل کا معنی: پہلے کا وقت)

21. أَ فَلَیْْسَ - تو کیا وہ نہیں ہے؟ (سوالیہ حرف)

22. فَیَأْتُوکَ - تو وہ تمہارے پاس آجائیں (فعل)

23. بِسُرَعٍ - دوڑتے ہوئے (اسم، معنی: تیزی، جلدی)

24. إِلَّا - سوائے

25. قَلِیلٍ - تھوڑے سے (لوگوں) کے (اسم، معنی: تعداد میں کم)

26. فَاصْبِرْ - تو آپ صبر کریں (فعل)

27. إِنَّ - بے شک

28. وَعْدَ - وعدہ (اسم، معنی: وعدہ)

29. اللَّهِ - اللہ کا

30. حَقٌّ - حق ہے (اسم)

31. فَلَا - تو نہ

32. یَسْتَخِفَّنَّكَ - تمہیں ہلکا نہ کرے (فعل)

33. الَّذِینَ - جو لوگ (اسم موصول)

34. لَا یُوقِنُونَ - یقین نہیں رکھتے (فعل)

سوال نمبر 3

سورہ یونس کے رکوع نمبر چھ سے فعل ماضی مضارع امر نہی حروف جارہ اور مرکب توصیفی کا چارٹ بناٸیں نیز ان کلمات کے معافی بھی تحریر کریں 

سورہ یونس رکوع نمبر 6 (آیات 41-50) کا گرامرٹیکل چارٹ


ذیل میں رکوع کے اہم الفاظ کی گرامرٹیکل قسسم بندی کی گئی ہے۔


چارٹ: الفاظ کی اقسام


لفظ قسم معنی

كَذَّبُوكَ فعل ماضی انہوں نے آپ کو جھٹلایا

قُل فعل امر آپ کہیے

أَعْمَلُ فعل مضارع میں عمل کرتا ہوں

تَعْمَلُونَ فعل مضارع تم عمل کرتے ہو

أَنْتُمْ اسم (ضمیر) تم

بِرِيءٌ اسم بیزار/بری

مَّا حرف نفی نہیں

تَعْمَلُونَ فعل مضارع تم کرتے ہو

مِنْهُ حرف جر + ضمیر اس سے

نُنَبِّئُكُمْ فعل مضارع ہم تمہیں بتاتے ہیں

بِالْعِلْمِ حرف جر + اسم علم کے ساتھ

مَا اسم موصول جو (کچھ)

كُنَّا فعل ماضی ہم تھے

نَعْمَلُ فعل مضارع ہم کرتے ہیں (کرتے تھے)

خَاسِرِينَ مرکب توصیفی نقصان اٹھانے والے

يَنْتَظِرُونَ فعل مضارع وہ انتظار کر رہے ہیں

إِلَّا حرف استثنا سوائے

السَّاعَةَ اسم قیامت

أَن تَأْتِيَهُم فعل مضارع کہ وہ ان پر آجائے

بَغْتَةً اسم اچانک

فَقَدْ حرف + حرف پس یقیناً

جَاءَ فعل ماضی آگئی

أَشْرَاطُهَا مرکب اضافی اس کی نشانیاں

فَأَنَّىٰ حرف استفہام تو کہاں سے (کیسے)

لَهُمُ حرف جر + ضمیر ان کے لیے

إِذَا حرف شرط جب

جَاءَتْهُمْ فعل ماضی ان کے پاس آگئی

ذِكْرَاهُمْ مرکب اضافی ان کا یاد کرنا (نصیحت)

قُل فعل امر آپ کہیے

لَا أَقُولُ نفی + فعل مضارع میں نہیں کہتا

عِندِي حرف جر + ضمیر میرے پاس

خَزَائِنُ اسم خزانے

رَحْمَةِ اسم رحمت

أَعْلَمُ فعل مضارع میں جانتا ہوں

الْغَيْبِ اسم غیب

إِنْ حرف شرط اگر

كُنتُ فعل ماضی میں ہوتا

عَلِمْتُ فعل ماضی میں جان لیتا

الْغَيْبَ اسم غیب

لَاسْتَكْثَرْتُ حرف + فعل ماضی تو میں بہت حاصل کر لیتا

مِنَ حرف جر سے

الْخَيْرِ اسم بھلائی

وَمَا حرف عطف + نفی اور نہیں

مَسَّنِيَ فعل ماضی مجھے چھوا ہے

السُّوءُ اسم برائی

إِنْ حرف شرط اگر

أَتَّبِعُ فعل مضارع میں پیروی کرتا ہوں

إِلَّا حرف استثنا مگر

مَا اسم موصول جس (بات) کی

يُوحَىٰ فعل مضارع مجہول وحی کی جاتی ہے

إِلَيَّ حرف جر + ضمیر میری طرف

قُل فعل امر آپ کہیے

هَل حرف استفہام کیا

يَسْتَوِي فعل مضارع برابر ہو سکتے ہیں

الْأَعْمَىٰ مرکب توصیفی اندھا

وَالْبَصِيرُ مرکب توصیفی بینا

فَلَا حرف عطف + نفی تو کیا نہیں

تَتَفَكَّرُونَ فعل مضارع تم غور کرتے ہو

وَأَنذِرْ حرف عطف + فعل امر اور ڈر سنا دیجیے

بِهِ حرف جر + ضمیر اس (کلام) کے ذریعے

الَّذِينَ اسم موصول وہ لوگ جو

يَخَافُونَ فعل مضارع ڈرتے ہیں

أَن حرف مصدری کہ

يُحْشَرُوا فعل مضارع مجہول وہ جمع کیے جائیں گے

إِلَىٰ حرف جر کی طرف

رَبِّهِمْ مرکب اضافی ان کے رب

لَيْسَ فعل ناقص (نفی) نہیں ہے

لَهُم حرف جر + ضمیر ان کے لیے

مِّن حرف جر سے

دُونِهِ حرف جر + ضمیر اس کے سوا

وَلِيٌّ اسم کوئی کارساز

وَلَا حرف عطف + نفی اور نہ

شَفِيعٌ اسم کوئی سفارشی

لَّعَلَّهُمْ حرف ترجی + ضمیر تاکہ وہ

يَتَّقُونَ فعل مضارع پرہیزگاری اختیار کریں

وَلَا حرف عطف + نفی اور نہ

تَطْرُدِ فعل مضارع (نہی) آپ دور نہ کریں

الَّذِينَ اسم موصول ان لوگوں کو جو

يَدْعُونَ فعل مضارع پکارتے ہیں

رَبَّهُمْ مرکب اضافی اپنے رب کو

غَدَوًا اسم صبح کو

وَعَشِيًّا اسم اور شام کو

يُرِيدُونَ فعل مضارع وہ چاہتے ہیں

وَجْهَهُ مرکب اضافی اس کا چہرہ (یعنی اس کی رضا)

مَا اسم موصول (وہ) جس

عَلَيْكَ حرف جر + ضمیر آپ پر

مِنْ حرف جر سے

حِسَابِهِم مرکب اضافی ان کا حساب

مِّن حرف جر سے

شَيْءٍ اسم کوئی چیز

وَمَا حرف عطف + نفی اور نہ

عَلَيْكَ حرف جر + ضمیر آپ پر

مِن حرف جر سے

حِسَابِهِم مرکب اضافی ان کے حساب کی

شَيْءٌ اسم کوئی چیز

لِتَطْرُدَهُمْ حرف مصدری + فعل مضارع تاکہ آپ انہیں دور کریں

فَتَكُونَ حرف عطف + فعل مضارع پس آپ ہو جائیں

مِنَ حرف جر میں سے

الظَّالِمِينَ مرکب توصیفی ظالموں کے

وَكَذَٰلِكَ حرف عطف + مرکب اشارہ اور اسی طرح

فَتَنَّا فعل ماضی ہم نے آزمایا

بَعْضَهُم مرکب اضافی ان میں سے بعض کو

بِبَعْضٍ حرف جر + اسم بعض کے ذریعے

لِّيَقُولُوا حرف مصدری + فعل مضارع تاکہ وہ کہیں

أَهَٰؤُلَاءِ اسم اشارہ کیا یہ لوگ

مَنَّ فعل ماضی فضل کیا ہے

اللَّهُ اسم اللہ نے

عَلَيْهِم حرف جر + ضمیر ان پر

مِّن حرف جر میں سے

بِينِنَا مرکب اضافی ہمارے درمیان

أَلَيْسَ حرف استفہام + نفی کیا نہیں ہے

اللَّهُ اسم اللہ

بِأَعْلَمَ حرف جر + اسم تفضیل خوب جاننے والا

بِالشَّاكِرِينَ حرف جر + مرکب توصیفی شکر کرنے والوں کو

وَإِذَا حرف عطف + شرط اور جب

جَاءَكَ فعل ماضی آپ کے پاس آئے

الَّذِينَ اسم موصول وہ لوگ جو

يُؤْمِنُونَ فعل مضارع ایمان لاتے ہیں

بِآيَاتِنَا حرف جر + مرکب اضافی ہماری آیتوں پر

فَقُل حرف عطف + فعل امر تو آپ کہہ دیجیے

سَلَامٌ اسم سلامتی ہے

عَلَيْكُمْ حرف جر + ضمیر تم پر

كَتَبَ فعل ماضی لکھ دیا ہے

رَبُّكُمْ مرکب اضافی تمہارے رب نے

عَلَىٰ حرف جر پر

نَفْسِهِ مرکب اضافی اپنے ذمہ

الرَّحْمَةَ اسم رحمت

أَنَّهُ حرف توكيد + ضمير یہ کہ

مَن اسم موصول جس نے

عَمِلَ فعل ماضی عمل کیا

مِنكُمْ حرف جر + ضمیر تم میں سے

سُوءًا اسم برائی

بِجَهَالَةٍ حرف جر + اسم جہالت سے

ثُمَّ حرف عطف پھر

تَابَ فعل ماضی توبہ کی

مِن حرف جر کے بعد

بَعْدِهِ مرکب اضافی اس (گناہ) کے

وَأَصْلَحَ فعل ماضی اور سنوار لیا

فَأَنَّهُ حرف عطف + حرف توكيد تو یقیناً وہ

غَفُورٌ مرکب توصیفی بہت بخشنے والا

رَّحِيمٌ مرکب توصیفی بہت رحم کرنے والا

وَكَذَٰلِكَ حرف عطف + مرکب اشارہ اور اسی طرح

نُفَصِّلُ فعل مضارع ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں

الْآيَاتِ اسم آیتوں کو

وَلِتَسْتَبِينَ حرف عطف + مصدر اور تاکہ واضح ہو جائے

سَبِيلُ اسم راستہ

الْمُجْرِمِينَ مرکب توصیفی مجرموں کا

قُل فعل امر آپ کہیے

إِنَّمَا حرف حصر بس

أُوحِيَ فعل ماضی مجہول میری طرف وحی کی گئی ہے

إِلَيَّ حرف جر + ضمیر میری طرف

أَنَّمَا حرف توكيد + حرف حصر یہ کہ بس

إِلَٰهُكُمْ مرکب اضافی تمہارا معبود

إِلَٰهٌ اسم ایک ہی معبود

وَاحِدٌ مرکب توصیفی ایک

فَهَل حرف عطف + استفہام تو کیا

أَنتُم اسم (ضمیر) تم

مُّسْلِمُونَ مرکب توصیفی فرمانبردار ہو

فَإِن حرف عطف + شرط پھر اگر

تَوَلَّوْا فعل ماضی انہوں نے رُخ پھیر لیا

فَقُل حرف عطف + فعل امر تو آپ کہہ دیجیے

آذَنتُكُمْ فعل ماضی میں نے تمہیں آگاہ کر دیا

عَلَىٰ حرف جر پر

سَوَاءٍ اسم برابری

وَإِن حرف عطف + شرط اور اگر

أَدْرِي فعل مضارع میں نہیں جانتا

أَقَرِيبٌ مرکب توصیفی قریب ہے

مَّا اسم موصول وہ (جس)

تُوعَدُونَ فعل مضارع مجہول تمہیں اس کا وعدہ دیا جاتا ہے

أَوْ حرف عطف یا

يَجْعَلُ فعل مضارع بنائے گا

رَبِّي مرکب اضافی میرا رب

لَهُ حرف جر + ضمیر اس کے لیے

أَمَدًا اسم ایک مدت

عَالِمُ اسم جاننے والا

الْغَيْبِ مرکب اضافی غیب کا

فَلَا حرف عطف + نفی تو نہیں

يُظْهِرُ فعل مضارع ظاہر کرتا ہے

عَلَىٰ حرف جر پر

غَيْبِهِ مرکب اضافی اپنے غیب میں سے

أَحَدًا اسم کسی کو

إِلَّا حرف استثنا سوائے

مَنِ اسم موصول جسے

ارْتَضَىٰ فعل ماضی اس نے پسند کیا

مِن حرف جر سے

رَسُولٍ اسم رسول

فَإِنَّهُ حرف عطف + حرف توكيد تو بے شک وہ

يَسْلُكُ فعل مضارع چلا لیتا ہے

مِن حرف جر سے

بَيْنِ اسم درمیان

يَدَيْهِ مرکب اضافی اس کے آگے

وَمِن حرف عطف + حرف جر اور سے

خَلْفِهِ مرکب اضافی اس کے پیچھے

رَصَدًا اسم محافظ (فرشتے)

لِّيَعْلَمَ حرف مصدری + فعل مضارع تاکہ وہ جان لے

أَن حرف توكيد کہ

قَدْ حرف تحقيق یقیناً

أَبْلَغُوا فعل ماضی پہنچا دیا ہے

رِسَالَاتِ اسم پیغامات کو

رَبِّهِمْ مرکب اضافی ان کے رب کے

وَأَحَاطَ فعل ماضی اور اس نے احاطہ کر لیا

بِمَا حرف جر + اسم موصول اس (چیز) کو جس کا

لَدَيْهِمْ حرف جر + ضمیر ان کے پاس

وَأَحْصَىٰ فعل ماضی اور شمار کر لیا ہے

كُلَّ اسم ہر ایک چیز کا

شَيْءٍ اسم چیز

عَدَدًا اسم گنتی کے ساتھ

سوال نمبر 4

سورہ یونس کے رکوع نمبر نو اور دس کے مضامين کا خلاصہ تحریر کریں

سورہ یونس کے رکوع نمبر 9 اور 10 کے مضامین کا خلاصہ


ذیل میں سورہ یونس کے رکوع نمبر 9 (آیات 71 تا 82) اور رکوع نمبر 10 (آیات 83 تا 92) کے اہم مضامین کا خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے۔



رکوع نمبر 9 کا خلاصہ (آیات 71 تا 82)


اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوموں کے واقعات کے ذریعے توحید کے اثبات اور شرک کے رد پر زور دیا گیا ہے۔


1. حضرت نوحؑ کا واقعہ اور اس کی نصیحت:

   · ان آیات میں حضرت نوح علیہ السلام کے طویل عرصے تک چلنے والے دعوتی سفر کا ذکر ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو اللہ کی نافرمانی کے انجام سے ڈرایا۔

   · آپ نے انہیں سمجھایا کہ میں تمہارے پاس واضح دلیل (اللہ کا پیغام) لے کر آیا ہوں، سو تم اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔

   · اس کے بدلے میں میں تم سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتا، میرا اجر صرف اللہ کے ذمہ ہے۔

2. قوم کا انکار اور استہزا:

   · قوم کے سرداروں نے حضرت نوحؑ کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور آپ کے ساتھیوں (جو معاشرے کے کمزور طبقے سے تھے) کو حقیر جانا۔

   · انہوں نے نوحؑ پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ بھی تمہاری طرح ایک عام انسان ہیں۔

   · انہوں نے کہا کہ اگر اللہ کا عذاب بھیجنا ہی ہے تو اسے لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔

3. حضرت موسیٰؑ اور جادوگروں کا واقعہ:

   · پھر حضرت موسیٰ اور فرعون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس میں فرعون کے جادوگروں کو حقیقت کا علم ہوا۔

   · جادوگروں نے حضرت موسیٰؑ کے معجزے (عصا کے اژدہا بننے) کو دیکھ کر سچے دل سے ایمان قبول کر لیا اور کہا: "ہم پروردگار عالمین پر ایمان لائے، جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔"

   · انہوں نے فرعون کے غصے اور دھمکیوں کے باوجود اپنا ایمان نہیں چھوڑا اور شہادت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہو گئے، کیونکہ انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اللہ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کے گناہ معاف فرما دے گا۔

4. قرآن کی صداقت کا اعلان:

   · رکوع کے آخر میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ قرآن وہی برحق کلام ہے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔

   · اس کے باوجود لوگ اسے جھٹلاتے ہیں، حالانکہ اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں۔



رکوع نمبر 10 کا خلاصہ (آیات 83 تا 92)


اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کو مکمل کیا گیا ہے اور اس سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔


1. مؤمنین کا گروہ:

   · حضرت موسیٰؑ پر ایمان لانے والے ایک چھوٹے سے گروہ (سوائے ان کی اپنی قوم کے چند لوگوں کے) نے فرعون اور اس کے ظلم و ستم کا ڈر دکھایا۔

   · فرعون زمین میں بڑا فساد انگیز اور تکبر کرنے والا تھا۔

2. فرعون کا مقابلہ اور دریائے نیل میں غرقابی:

   · حضرت موسیٰؑ نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لیا۔

   · فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ وہ دریائے نیل میں غرقاب ہو گئے۔

   · غرق ہوتے وقت فرعون نے کہا: "میں ایمان لے آیا اس (معبود) پر جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔"

3. فرعون کے ایمان کی قبولیت:

   · اللہ نے فرعون کے اس آخری وقت کے ایمان کو قبول نہیں فرمایا اور فرمایا: "اب (ایمان لائے ہو)؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد انگیزی کرنے والوں میں سے تھا۔"

   · اس موقعے پر فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے محفوظ کر لیا گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے سبق حاصل کریں۔

4. آخرت کی تیاری کا درس:

   · اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اچھی جگہ بسایا اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا۔

   · پھر انہیں نصیحت کی گئی کہ تمہارے پاس علم (تورات) آچکا ہے، اس لیے اختلافات پیدا نہ کرو، بلکہ اس دن (قیامت) سے پہلے توبہ کر لو جس دن کوئی عذاب کو ٹال نہیں سکے گا۔


مجموعی نتیجہ:

ان دو رکوعوں میں گذشتہ قوموں کے واقعات کے ذریعے یہ سبق دیا گیا ہے کہ حق کو جھٹلانے اور رسولوں کی مخالف کا انجام بہت برا ہوتا ہے،چاہے وہ فرعون جیسا طاقتور ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس، جو لوگ حق قبول کر لیتے ہیں، خواہ وہ جادوگر ہی کیوں نہ ہوں، اللہ ان کے ایمان کو قبول فرما لیتا ہے اور انہیں اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔

سوال نمبر 5

سورہ ہود کا تعارف تحریر کریں نیز اس کے پہلے رکوع کا سلیس ترجمہ  تحریر کریں

سورہ ہود کا تعارف


سورہ ہود قرآن مجید کی 11ویں سورت ہے جو 12ویں پارے میں واقع ہے۔ اس میں 123 آیات، 10 رکوع اور 1840 کلمات ہیں۔ یہ سورت مکی ہے سوائے اس کی آیات 12, 17 اور 114 کے جو مدنی ہیں۔


اہم مضامین و خصوصیات:


1. بنیادی موضوع: توحید، رسالت، آخرت اور ان پر ایمان لانے کے تقاضوں کی وضاحت کرنا ہے۔ اس سورت میں انبیاء کے واقعات کے ذریعے یہ دکھایا گیا ہے کہ جو قومیں اپنے انبیاء کی تکذیب کرتی ہیں، ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔

2. مرکزی دعوت:

   · اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کے دلائل

   · رسالت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق

   · روز آخرت کے عقیدے کی تلقین

   · صبر و استقامت اور توکل علی اللہ کی ترغیب

3. انبیاء کے واقعات: اس سورت میں متعدد انبیاء کے قصے تفصیل سے بیان ہوئے ہیں:

   · حضرت نوح علیہ السلام

   · حضرت ہود علیہ السلام

   · حضرت صالح علیہ السلام

   · حضرت ابراہیم علیہ السلام

   · حضرت لوط علیہ السلام

   · حضرت شعیب علیہ السلام

   · حضرت موسیٰ علیہ السلام

4. خصوصیت: یہ سورت اور سورہ یونس دونوں "احسن القصص" (بہترین قصے) ہیں جو نبی کریم ﷺ پر شدید مخالفت کے دور میں نازل ہوئیں تاکہ آپ ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے گذشتہ امتوں کے واقعات سے سبق دلایا جائے۔

5. شان نزول: کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ﷺ پر عذاب نازل کر کے ہلاک کر دیں یا پھر قرآن کو بدل دیں۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں انبیاء کے صبر اور دشمنان اسلام کے عبرت ناک انجام کو بیان کیا گیا۔


---


سورہ ہود کے پہلے رکوع (آیات 1 تا 5) کا سلیس ترجمہ:


(آیت 1)

(یہ) ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات محکم (یعنی واضح اور مضبوط) بنائی گئی ہیں، پھر (انہیں) حکمت والے، باخبر (اللہ) کی طرف سے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔


(آیت 2)

(یہ حکم ہے) کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ بے شک میں تمہیں اسی (اللہ) کی طرف سے ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔


(آیت 3)

اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو (توبہ کرو)، تو وہ تمہیں ایک مقررہ وقت تک اچھا فائدہ (اور آرام) پہنچائے گا، اور ہر فضیلت والے کو اس کا فضل (ثواب) عطا فرمائے گا۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں۔


(آیت 4)

تمہیں اللہ ہی کی طرف پلٹنا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔


(آیت 5)

سنو! وہ (کافر) اپنے سینوں کو (حق قبول کرنے سے) چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس (اللہ) سے اپنے آپ کو چھپا سکیں۔ سن لو! جب وہ اپنے کپڑوں میں (اپنے آپ کو) لپیٹتے ہیں (یعنی آرام کرتے ہیں)، تو اللہ ان کی ہر وہ بات جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ بیشک وہ سینوں کے بھیدوں کو خوب جاننے والا ہے۔

Comments