*🚨🚨🚨 تحریک لبیک پاکستان نے بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے لانگ مارچ کی حمایت کیوں کی؟ مکمل پس منظر*
*🚨🚨🚨 تحریک لبیک پاکستان نے بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے لانگ مارچ کی حمایت کیوں کی؟ مکمل پس منظر*
*مفتی وزیر احمد رضوی بلوچ کے خلاف پروپیگنڈہ کا سد باب۔۔۔ حقائق پر مبنی اہم تحریر*
*اول تو یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ تحریک لبیک پاکستان (TLP) ملکِ پاکستان کے آئین پر مکمل اعتماد رکھتی ہے اور چاروں صوبوں بمع آزاد کشمیر و گلگت بلتستان میں تحریکی تنظیمی عہدے داران موجود ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان ایک اسلام پسند جماعت ہے جس کا لسانیت و صوبائیت سے کوئی تعلق نہیں۔*
*تحریک لبیک پاکستان ہر ایسی سیاسی جماعت، مذہبی گروپ اور مسلح تنظیم کے خلاف ہے جو آئین پاکستان کو نہیں مانتی چاہے وہ ملک کے کس بھی کونے سے تعلق رکھتی ہو۔*
*یہ بات ایک حقیقت ہے کہ بلوچستان میں دہشتگرد عناصر عرصہ دراز سے ملک پاکستان کے خلاف مسلح جد و جہد کر رہے ہیں لیکن وہاں اکثریت ایسے شہری بھی موجود ہیں جو ریاست مخالف مسلح جد و جہد پر یقین نہیں رکھتے، آئین کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں اور فقط اپنے بنیادی حقوق کے لیے اپنے آئینی حق کے تحت احتجاج کرتے ہیں۔*
*لیکن افسوس کی بات ہے کہ حکومت پاکستان اور ریاستی ادارے ان آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والے شہریوں سے بھی اچھا سلوک نہیں کرتے، جو قوت انہیں دہشتگرد عناصر کے خلاف استعمال کرنی چاہیے تھی وہ عوام الناس کے خلاف استعمال ہورہی ہے جس سے لوگوں کا ریاست پر اعتماد کم ہو رہا ہے اور ریاست کی اس غلطی کی وجہ سے دہشت گرد عناصر مزید مضبوط ہوتے ہیں۔*
*بلوچستان کے اہم مسائل میں سے ایک بُہت بڑا مسئلہ جبری گمشدگیوں کا ہے، تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی امیر جانشین امیر المجاھدین علامہ حافظ سعد حسین رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے بھی اس مسئلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور حکومت سے جبری گمشدگہ افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن افسوس حکومت باز نہیں آئی اور اب بلوچستان میں حالات بُہت خراب ہو گئے ہیں، پچھلے کچھ ہفتوں میں عام شہریوں پر حکومت نے کریک ڈاؤن بُہت سخت کردیا ہے اور کئی بے گناہ گرفتار ہو گئے ہیں اور اس وجہ سے ریاست مخالف دہشتگرد عناصر بھی مزید طاقت ور ہو رہے ہیں۔*
*جن افراد کو حراست میں لیا جا رہا ہے یا لاپتہ کیا جا رہا ہے اُن میں بُہت بڑی تعداد میں خواتین کی ہے یہاں تک کہ تحریک لبیک پاکستان کے MPA کی سیٹ کے ٹکٹ ہولڈر کی چھوٹی ہمشیرہ کو جبری طور پر گمشدہ کردیا گیا ہے۔۔۔ مزید تحریکی عہدے داران اور اُنکے گھر والوں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے جو کہ نا قابل قبول ہے۔*
*اسی حکومتی ظلم و ستم کے خلاف آئین پاکستان کو ماننے والی، الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعت، بلوچستان نیشنل پارٹی جسکا سربراہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل ہے نے احتجاج کے طور پر کوئیٹہ تک ایک پر امن لانگ مارچ کا اعلان کیا جس پرقائد ملت اسلامیہ حافظ سعد حسین رضوی کے اصولی موقف ”مر جائیں گے ظالم کی حمایت نہ کریں گے“ اور ”جھلیا تیری میری کی ہوندی ہے؟ دھی تے دھی ہوندی ہے“ اور مرکزی پالیسی کے تحت مرکزی رُکن شوریٰ و امیر صوبہ بلوچستان، شاگرد خاص حضور امیر المجاھدین مفتی وزیر احمد رضوی بلوچ صاحب نے بلوچ نیشنل پارٹی کے اس پر امن احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔
*یاد رکھیں کہ تحریک لبیک پاکستان نے کسی علیحدگی پسند تنظیم کی حمایت نہیں کی بلکہ ایک آئین پاکستان کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ جماعت کی سپورٹ کا اعلان کیا ہے لیکن کچھ کُچھ معصوم احباب سرکاری پروپیگنڈے کی وجہ سے پریشان ہو گئے ہیں اور چند ایک شر پسند عناصر تو مفتی وزیر صاحب کی کردار کشی پر اتر آئے ہیں جو کہ بُہت ہی قابل مذمت رویہ ہے۔*
*یہ وہی مفتی وزیر احمد رضوی ہیں جنہوں نے قائد ملت اسلامیہ کی رہائی کے لیے پنجاب کے شہر لاہور سے وزیر آباد تک مارچ کی نہایت بہادری سے قیادت کی اور عاشقان مصطفیٰ نے انکی سربراہی میں عظیم الشان فتح نصیب ہوئی۔۔۔۔ یہ وہ ہیں جنکی تعلیم و تربیت خود حضور امیر المجاھدین امام الغیرت علامہ خادم حسین رضوی نے کی، اپنی مرکزی شوریٰ میں شامل کیا اور امیرِ بلوچستان بنایا، کیا ایسا شخص لسانیت پر یقین رکھ سکتا؟ نہیں بلکل نہیں بابا جی علیہ رحمہ نے ہمیں لسانیت و صوبائیت سے نکال کر آقا و مولا امام الانبیاء، خاتم النبیین ﷺ کی بارگاہ خاص میں پُہنچایا اور رسول اللہ ﷺ کی یہ سنت ہے کہ مظلوم کا ساتھ دیں اور ظالم کے خلاف آواز اٹھائیں۔*
*اسی سنت پر عمل پوری تحریک لبیک پاکستان، جانشین امیر المجاھدین حافظ سعد حسین رضوی اور مرکزی اراکینِ شوریٰ بلخصوص امیرِ بلوچستان مفتی وزیر احمد رضوی بلوچ کر رہے ہیں اور ان شاءاللہ جب تک جان میں جان رہی کرتے رہیں گے۔*
*یہ تحریر ندیم حسین ایڈمن رضوی سوشل میڈیا کی کال پر مفتی وزیر احمد رضوی صاحب سے بلوچستان کے مسئلے پر تفصیلی گفتگو کے بعد لکھی گئی ہے‼️*
*⚠️ تمام احباب اس تحریر کو اپنے جاننے والے تحریکی دوستوں میں زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اپنے واٹساپ گروپس میں وائرل کریں اور فیس بک و ٹویٹر X پر پوسٹ کریں۔ شکریہ!*



Comments
Post a Comment