میرا حبیب ﷺ ایمان والوں کو پاک فرماتا ہے ۔
Description: 22
اکتوبر بروز منگل کو شہر بڑکی بدھال میں ایک محفل جشن میلاد پاک منعقد ہوٸی۔ جس میں شہر گوجرخان کی کثیر عاشق رسولﷺ عوام نے شرکت کی۔ اس موقع پر خصوصی خطاب حضرت علامہ مفتی حامد سرفراز رضوی صاحب نے خصوصی خظاب کیا۔ جو کہ فیصل آباد سے تشریف لاۓ تھے۔ زبان اور شکل و صورت کے اعتبار سے یہ شہر کراچی کے مدرسہ سے تعلیم یافتہ لگ رہے تھے ۔ جس موضوع پر علامہ حامد رضوی صاحب نے خطاب فرمایا میرا حبیب ﷺ ایمان والوں کو پاک فرماتا ہے ۔
My beloved ﷺ purifies the believers :
اپنی محفلوں کو ہماری زات پاک پر درودھ شریف پڑھ کر خوبصورت بناٶ.
تمھارا درودھ پاک پڑھنا قیامت کے دن تمھارے لیۓ نور ہوگا۔
صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہٖ واصحابہ وبارک وسلم
اللہ پاک ﷻ نے قرآن مجید اپنے محبوب کریم ﷺ اور ہمارے آقا مولا ﷺ نے ان گنت صفات بیان فرماٸی ہیں۔ ان میں سے ایک صفت بیان فرماٸی میرا حبیب ﷺ ایمان والوں کو پاک فرماتا ھے۔
ظاہر کی پاکیزگٸ بھی حضور ﷺ عطا فرماتے ہیں۔ اور اندر کی پاکیزگٸ بھی حضور ﷺ عطا فرماتے ہیں.
سیدھا سے مسلہ ہے جب انسان نے غسل کرنا ہو تو پانی بھی پاک چاہۓ جو انسان کو پاک کرۓ .
تو حضور ﷺ تمام ایمان والوں کو پاک کرتے ہیں ۔ اور کفر والوں کو بھی پاک کرتے ہیں.
کفر دور کرکے ایمان کا نور دلوں میں داخل فرماتے ہیں ۔
تو سرور عالم ﷺ کی پاکیزگٸ کا عالم کیا ہوگا.
اس لیۓ چند باتیں سرکار دوعالم ﷺ کی پاکیزگٸ کی
عام دیکھنے میں آتا ہے بچہ یا بچی جب پیدا ہوتے ہیں. تو ان کے سر بال رحم مادہ کی رتوبت کی وجہ سے الجھے ہوۓ ہوتے ہیں.
جب میرے کریم ﷺ کی ولادت ہوٸی تو سر انور کے بال مبارک خوبصورت انداز میں تھے.مبارک سر اقدس میں کنگا ہوا تھا .اور درمیان میں مانگ مبارک نکلی ہوٸی تھی.
جب بچہ بچی پیدا ہوتے ہیں ۔ تو رحم مادہ کی رتوبت کی وجہ سے جسم پر خون کے داغ وغیرہ ہوتے ہیں .
جب میرے کریم ﷺ کی ولادت ہوٸی تو جسم مبارک خوشبو دار موعطر اور موعمبر تھا ۔
جماٸی جو آتی ہے . انسان کو اس کے دو اسباب ہوتے ہیں ۔پہلا سبب یہ کہ سستی ۔ اور دوسرا سبب شیطان ۔ گویا یہ کہ جماٸی کاسبب شیطان بھی ہوتا ھے. کیوں کہ وہ انسان کو عبادت سے غافل کرتا ہے.
میرے کریم ﷺ اور تمام انبیا۶ اکرام کو کبھی جماٸی نہیں آٸی۔
مرد حضرات جب سوتے ہیں ان پر غسل فرض ہوجاتا ہے .
اس کے بھی دوسبب ہوتے ہیں۔
ایک طبی مسلہ دوسرا شیطانی اثر ۔
میڈکلی طور پر کچھ ایسے اثرات ہوتے ہیں ۔ جس سے انسان پر سوتے ہوۓ غسل فرض ہوجاتا ہے۔ اور دوسرا شیظانی خیالات بندے پر غالب ہوتے ہیں۔ خواب کی دنیا میں کہاں سے کہاں اسے پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیۓ اس پر غسل فرض ہوجاتا ہے.
لطف لیجۓ اس بات کا میرے آقا دوجہان ﷺ اور رب تعالی کے تمام نبی علیہ السلام اس سے پاک تھے .
حبیب ﷺ آۓ ہی پاک فرمانے کے لیۓ ہیں
چھوٹے بچہ اور بچی کو جب شعور نہیں ہوتا تو وہ بستر پر پیشاب کردیتے ہیں .
خصرت حلیمہ سعدیہ ؓ فرماتی ہیں حضور اقدس ﷺ نے دودھ پینے کی عمر مبارک میں ایک دن بھی بستر پر کبھی یہ کام نہیں کیا .
یہ پاکیزگی ہے ہمارے آقا دوجہاں ﷺ کی۔
مکھی یہ جو طبعیت کو عجیب کردیتی ہے۔ اور یہ بڑے بڑے بندوں کو پریشان کردیتی ہے ۔
وقت کا بادشاہ ہے اس کے ناک پر مکھی بیٹھی اس نے ہاتھ سے اڑا دی مکھی پھر آکر اس کے ناک پر بیٹھ گٸ ۔
اس نے پھر ہاتھ سے اڑا دی مگر مکھی آکر اس کی ناک پر بیٹھ گٸ۔ بادشاہ کو غصہ آگیا ظاہر سی بات ہے یہ بادشاہ کسی کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دیتے۔ یہاں بیچارہ کو زیادہ غصہ تھا ۔ کہ بادشاہ بھی ہوں اڑاتا بھی ہوں پھر آجاتی ہے۔ اور میں اسکو پکڑ بھی نہیں سکتا ۔
تو غصہ کے اثرات مزید بڑھ گۓ . اتنے میں سید و سادات کریم ابن کریم امام جعفر صادق ؓ بادشاہ کے دربار میں حاظر ہوۓ۔
تو بادشاہ غصہ میں لال پیلا تھا ۔ امام جعفر صادق ؓ سے عرض کرنے لگا آۓ رسول پاک ﷺ کے لخت جگر رب تعالی نے یہ مکھی کیوں بناٸی ہے۔ تو امام جعفر صادق ؓ نے جواب دیا اللہ پاک نے یہ مکھی مغرور لوگوں کا غرور توڑنے کے لیۓ بناٸی ہے ۔
انسان رب تعالی کا ہوجاۓ تو کاٸنات کی ہر شۓ اس کی ہوتی ہے.
انسان چار عناصر کا مرکب و مجموعہ ہے .
آگ پانی مٹی اور ہوا
اگر غور کیا جاۓ تو یہ سب ہلاک کرنے والی چیزیں ہیں۔ لیکن چار چیزوں سے بنا انسان اس رب تعالی کا فرمابردار ہوجاۓ۔ تو یہ تمام چیزیں اس کی فرمابردار ہوجاتی ہیں.
اگر ہم اس مضبون پر چلۓ تو وقت پر گزر جاۓ گا ۔
بات صرف یہی ہے کہ حضور مکرم ﷺ تمام ایمان والوں کو پاک فرمانے والے ہیں ۔
نبی مکرم ﷺ کے جسم مبارک پر اور لباس مبارک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھتی ۔
مکھی سرکار مدینہ ﷺ کے جسم مبارک پر کیوں نہیں بیٹھتی تھی۔ امام نعمی ؒ نے اس کو نقل کیا کریم ابن کریم اما باقر ؓ فرماتے ہیں میرے والد ماجد سید و سادات اما زین العابدین ؓ نے اپنے بیٹے امام باقرؓ سے فرمایا ہم واش روم میں جاتے ہیں۔ وہاں مکھیاں وغیرہ ہوتی ہیں تو وہ گندی جگہ پر بیٹھتی ہیں ۔ پھر اڑ کر ہمارے کپڑوں پر آجاتی ہے۔ میرا دل کرتا ہے کہ میں اللہ پاک کی عبادت کے لیۓ الگ سے ایک جوڑا بنواٶں تاکہ میں صرف وہ نماز کے وقت ہی پہنا کروں.
گوجرخان کے دوستوں برزگو جن زاتوں کا ظاہر اتنا پاک ہے۔ ان کا باطن کتنا پاک ہوگا۔
اس لیۓ سیدنا احمد رضا خان بریلوی عرض کرتے ہیں۔ کہ
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا تو ہے عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا۔
اب آپ نے غور کیا ہے کہ حضور ﷺ کے جسم پاک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھی اور نہ لباس پاک پر ۔
ایک جھوٹا سا بیان یہ ہے کہ حضور کریم ﷺ کی ولادت باسعادت سے لے کر غزور بدر تک اور غار سور سے لے حج الوداع تک سرکار مدینہ ﷺ کے جسم پاک اور لباس پاک پر کبھی مکھی نہیں بیٹھی ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ سوا لاکھ اصحابہ اکرام ؓ موجود ہیں مکھی کو شعور کہا سے آیا ہے کہ سرکار مدینہ ﷺ کے جسم پاک کی طرف نہیں جانا گویا کہ جب بات آجاۓ پاک مُحَمَّد عربی ﷺ کے جسم مبارک کی تو رب تعالی مکھیوں کو بھی تمیز دیۓ دیتا ہے۔ کہ اس مبارک ہستی ﷺ کے جسم مبارک کے قریب نہیں جانا۔ مگر افسوس یہ کہ ہم انسان ہوکر بھی الیکشن میں یہ تمیز نہیں کرتے۔ کہ یہ سیاسی جماعت رسول اللہ ﷺ کے نوکروں کی ہے۔ یا گستاخ میکرون سے ہاتھ اورغلہ ملانے والوں کی.
ثابت ہوا کہ میرا حبیب ﷺ آۓ ہی پاک فرمانے کے لیۓ ہیں.
یہ تو اللہ تعالی کی مخلوقات ہیں ہم غور نہیں کرتے۔ بند صرف اپنے آپ میں غور کرلے تو رب کو پہچان لے.
بڑی معذرت کے ساتھ یہ جملہ کہ رہا ہوں۔ ہم بہت کمزور ہوگۓ ہیں مگر تھے نہیں ۔
اس نفس نے ہمیں ناپاک کیا ہے۔ ہم شروع سے پلیت نہیں تھے ۔ہم تو بہت اچھے ہوتے تھے.
یہ ہے جو نفس انسان کو غیبت چغلی چوری کی طرف لے کر جاتا ہے۔ انسان اپنے نفس کی پیروی کرنے کی وجہ سے پلیت ہوتا ہے۔ لیکن ازل سے رب تعالی نے اس کو بہت اچھا پیدا کیا تھا.
کاش ہم اپنے آپ کو سمجھے?
ہم روز صبح اٹھتے ہیں۔ ناشتہ وغیرہ کرتے ہیں۔ اپنے ذریعہ معاش میں لگ جاتے ہیں۔ اور جو کوٸی کام نہیں کرتے فارغ ہوتے ہیں.
وہ اپنا وقت فضول کاموں میں لگاتے ہیں ۔ اگر کچھ نہ ہو تو موبائل زندہ باد ۔
گانے فلمے ہیں۔ ڈرامہ ہیں۔ پھر تھک کر اپنے بستر پر آکر سوگیا ۔
اے خصرت انسان تیرا یہ مقام تو نہ تھا۔
حضرت جلال دین رومیؒ نے ایک سبق بتایا ہے کہ وہ کہتے ہیں شیر سے لے کر بکری تک اور کوے سے لے کر شاہین تک جملہ جانور اور جملہ پرندے دیکھ لو جب بھی چارہ کھاتے ہیں۔ اور کوٸی کیڑے مکورے جب بھی وہ کھانا کھاٸیں گۓ۔ تو وہ اپنا منہ زمین کی طرف لے کر جاٸیں گۓ۔ لیکن انسان ہے جو سر اٹھاکر کھاناکھاتا ہے ۔
رب تعالی نے انسان کو روٹی کھانے کےلیۓ اس کا سر جھکانے نہیں دیا ۔ رب تعالی نے انسان کا سر اپنے آگۓ جھکنے کے لیۓ بنایا ہے.
لہذا ہمیں اپنے مقام سے واقف ہونا چاہۓ ۔
جس نے اپنے آپ کو پہچان لیا۔ اس نے رب تعالی کو پہنچان لیا.
انسانی جسم کی ایک قدرتی طور پر ایک ضرورت ہوتی ہے۔ کہ کھانے پینے کے بعد اس کو واش روم جانا پڑھتا ھے ۔پیشاب وغیرہ کی حاجت درپیش ہوتی ہے۔ تو سیدہ ام مومنین حضرت عاٸشہ صدیقہ ؓ فڑماتی ہیں ۔” میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ“
آپ جب واش روم میں تشریف لے جاتے ہیں ۔ جب میں جاٶ تو میں وہاں کچھ بھی نہیں دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو آپ وہاں کیا پاتی ہیں۔ تو سیدنا عاٸشہ صدیقہ ؓ وہاں صرف میں کسطوری کی خوشبو پاتی ہوں۔ وہ جگہ خوشبو سے مہک رہی ہوتی ہے .
ﷺ
” خصور کریم ﷺ نے فرمایا اے عاٸشہ ؓ ہم نبیوں کے جسم فرشتوں کی طرح ہوتے ہیں
یہ پاکیزگی ہے ہمارے آقا ﷺ کی.“
حضور اکرم ﷺ کو جوپسینہ مبارک آتا اُن ﷺ کا پسینہ آتا وہ سیدنا ام سلیم ؓ اتر کے طور پر استعمال فرماتی تھی -
اس لیۓ آلہ حضرت نے فرمایا
انہی ﷺ کی بو مایا ثمن ہے .
انہی ﷺ کاجلوہ چمن چمن ہے.
انہی ﷺ سے گلشن مہک رہیں ہیں .
انہی ﷺ کی رنگت گلاب میں ہے.
ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تشریف لاٸی اور گزارش کی یارسول اللہ ﷺ میری بیٹی کی شادی ہے اور عطر کے پیسے نہیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کل ایک بڑے منہ والی بوتل لے آنا۔ جب اگلے دن وہ بوتل لاٸی تو سرکار مدینہ ﷺ نے اپنے بازو سے پسینہ مبارک کے چند قطرات اس بوتل میں ڈال دیۓ ۔
تو وہ عورت ؓ سمجھ گٸ کہ خوشبو مبارک مل گٸ.
اب جو انکی بیٹی نے پیسنہ مبارک لگایا ۔ تو گھر کا حال یہ ہوگیا ۔ جو اس گلی سے گزرے مہک جاۓ ۔
وہ گھر جس پر رسول اللہ ﷺ کا پسینہ مبارک لگا ہے۔ اس گھر پتہ یہ ہوگیا ? جس کو پوچھنا ہوتا وہ پوچھتا خوشبو والا گھر کونسا ہے?
یہ حبیب ﷺ جلوہ گر ہی اس لیۓ ہوۓ ہیں کہ ایمان والوں کو پاک کریں.
داتا گنج بخش ؒ نے کشف معجوب میں لکھا ھے۔ بے شک رات ہو یا دن حضور مکرم ﷺ کے وجود پاک کا سایہ نہیں ٹھا.
حضور ﷺ کا سایہ نہ ہونے کی پہلی وجہ۔
حضور مکرم ﷺ نور ہیں ۔ لہذا نور کا سایہ نہیں ہوتا.
سایہ کو عربی میں” ظل“ کہتے ہیں۔ یہ چلتا ہے ۔ جب بندے کے ساتھ کبھی آگۓ اور کبھی پیچھے دن و رات کا فرق ہوتا ہے ۔ روشنی کا فرق ہوتا ھے۔ لیکن پرتا یہ زمین پر ہے ۔ راستہ میں زمین پر نالی وغیرہ آگٸ۔ ہم تو چھلانگ لگا لیں گۓ ۔ کہ نالی میں پاٶں نہ آۓ۔ لیکن سایہ نالی میں سے ہوکر ہی زمین کی طرف آۓ گا ۔اگر رسول اللہ ﷺ کا سایہ ہوتا ۔ تو وہ ساتھ ساتھ زمین پر چلتا.
لیکن رب تعالی ﷻ کو یہ بات گواہ نہ تھی۔ کہ میرے حبیب مکرم ﷺ کا سایہ زمین پر آۓ۔ دوسرا یہ کہ پاک یا ناپاک دونوں جگہ پر رب تعالیﷻ کو یہ پسند نہیں۔ اس لیۓ رب تعالیﷻ نے اپنے حبیب مکرم ﷺ کا سایہ ہی نہیں بنایا ۔
تیسری وجہ سایہ انسان کی طرح کا ہوتا ہے ۔
حبیب پاک ﷺ کا سایہ نہ بناکر رب تعالی ﷻ نے مسلمانوں کو یہ بتایا۔ کہ جس نبی مکرم ﷺ کا سایہ نہیں بنایا ۔ اُس ﷺ کا ثانی بھی نہیں ہوسکتا.
چوتھی وجہ یہ کہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ جو سیدنا عمر فاروق ؓ کے بیٹے تھے ۔ وہ کہیں جارہے تھے تو یہودی زوز زوز سے ان کے سایہ پر پاٶں مار رہا تھا ۔ یہودیوں کا غصہ بنتا بھی تھا کیونکہ سیدنا عمر فاروق ؓ نے ان معلونوں کو ان کی اوقات یاد کرا رکھٸ تھی ۔ ذلت کا ایسا نشان بنا دیا تھا حضرت عمر فاروق ؓ نے ان یہودیوں کو۔
آج فلسطين لٹا غزہ لٹا مگر ہم مسلمانوں کو پروہ ہی نہیں ہے اپنی زندگی میں مست ان یہودیوں کی مصنوعات استعمال کررہے ہیں .
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن کو ہتھیار فراہم کر کے انہیں مسلمانوں کے مقابلہ میں طاقتور بنائے، اور نہ بار برداری کے جانور (گھوڑے، خچر، گدھے) فراہم کرے، اور نہ کوئی ایسی چیز جس سے ہتھیار اور بار برداری کے انتظام میں مدد لی جاتی ہے۔"
*(الخراج للإمام أبي يوسف القاضي ص٢٠٧)*
مدتیں گزرگٸ ہیں جب یہ شوشل میڈیا نہیں تھا تب بھی ہم اخباروں میں پڑتے تھے کہ فلسطين کی دیواروں پر بچے بچیاں لکھ گٸ ہیں اب کو عمر فاروق ؓ جیسا نہیں آۓ گا جو ان یہودیوں کو پھر سے ذلت کا نشان بناۓ.
حضرت عمر فاروقؓ فاتح بیت مقدس ہیں ۔
جب سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے یہودی سے کی طرف دیکھا تو پوچھا یہ کیا کررہا ہے ۔ وہ کہنے لگا سامنے سے لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس لیۓ سایہ پر پاٶں مار کر اپنے غصہ ٹھنڈا کررہا ہوں.
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ نے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ پاک کا شکر ادا کیا ۔ اور کہا یاربی ﷻ اب سمجھ آٸی ہے ۔ کہ آپ ﷻ نے رسول اللہ ﷺ کا سایہ کیوں نہیں بنایا تھا.
خطبہ کے آخر میں مفتی صاحب نے قرآن مجید اور ترجمہ کنزل ایمان پڑھنے کا حکم دیا تھا اور نوجوانوں کو کہا تھا کہ وہ ایپ
کرکے موبائل میں ایک سے دو پیج روز پڑھ لیا کریں تاکہ اس فتنوں کے دور میں مسلمانوں کے ایمان سلامت رہے سکیں ۔
حضرات سے گزارش یہ ہے کہ ایپ صرف دعوت اسلامی کی Downland کریں اور ۔
اسلام 360 ایپ پر کیا گیا ترجمہ غلط ہے براہ کرم اس سے معلومات لینے سے پرہیز کریں مزید جانیں اس لنک میں۔
Conclusion:
ہمارے ہاں میلاد شریف کی محفلوں میں علما۶ اکرام نماز قاٸم کرنے پر زور دیتے ہیں ماں باپ کے ادب پر زور دیتے ہیں لیکن یہ بات بتانا بھول جاتے ہیں کہ سب سے پہلا حق رسول اللہ ﷺ کا ہے کہ ان سے وفا کی جاۓ کیا وفا صرف نماز پڑھنے قرآن پڑھنے اور درودھ شریف پڑھنے میں ہے ?
نہیں بلکہ وفا وہ جس طرح وفا کرنے کا حق ہے قرآن مجید میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تعظیم کا حکم ہے اس کے بعد احکامات ہیں لیکن زور صرف احکامات پر ہی کیوں ?
ہم لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر سود کے نظام کے ساتھ بھی چلتے ہیں
عجیب بات ہے احکامات پر عمل بھی اور اللہ رسول ﷺ سے جنگ بھی جس طرح سود کھانے والے کی نماز نہیں ہوتی ٹھیک اسی طرح سود کے نظام کے ساتھ چلنے والوں کی بھی نماز نہیں ہوتی اب علما۶ اکرام کو یہ بات بھی کھل کے کرنی ہوگٸ ۔
ہمارے ماحول میں میلاد شریف کے جلوس بھی نکلتے ہیں محفلیں بھی ہوتی ہیں مگر ان کا ادب کرنے والے لوگ بہت کم ہوتے ہیں علما۶ اکرام کو اب ان محافلوں کے ادب کے حوالہ سے بھی لوگوں کو آگاہی دینی ہوگٸ ۔
”رسول اللہ ﷺ نے جو مسلمان کی تعریف بتائی ہے اب اس پربھی عمل کرنے کی مسلمانوں کو سختی سے ضرورت ہے ۔
مسلمان ایک جسم کی ماند ہیں اگر جسم کے ایک حصہ کو تکليف ہو تو پوڑا جسم اس تکليف کو محسوس کرتا ہے۔ لیکن کیا ہم اس فرمان مبارک کے مطابق مسلمان ہیں ? اگر نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعہ ہی مسلمان ہیں ?
*یـٓہ ربــٓـ العالمیــٓـن کا فتــٓـویٰ ہـے کــٓـہ←_←*
*جــٓـو قــٓـرآن کـے مطــٓـابق حکومتــٓـ نہــٓـیں کــٓـرتا وہ کافــٓـر ہــٓـے⚔️🪔*
تو ان کافروں کو ہم ووٹ کیوں دیتے ہیں جو نہ راہ خدا میں جہاد کرسکتے ہیں نہ سود کے نظام سے اس ریاستی نظام کو پاک کرسکتے ہیں اور نہ عریبوں اور مجبور لوگوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
جب رب تعالیﷻ کے حبیب ﷺ آۓ ہی ہم ایمان والوں کو پاک کرنے کے لیۓ ہیں تو ہم آخر سود کے نظام سے کب پاک ہونگۓ?

Comments
Post a Comment